کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنے والے ممالک پاگل قرار مگر کیوں؟ جانیے تفصیلات

صدر بیلاروس نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنے والے ممالک کو پاگل قرار دے دیا۔

بیلاروس کے صدر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن غیر ضروری ہے،دنیا کا دماغ گھوم گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن کرنے کی ضرورت نہیں، یہ اقدام غیر ضروری ہوگا۔ انہوں نے بطورصدر کورونا سے بچاؤ کے لیے کوئی خاص احکامات جاری نہیں کیے گئے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ لال ڈاؤن اور اس جیسے سنگین اقدامات کرنے والے ممالک کا تو دماغ گھوم گیا ہے۔بیلا روس میں سالانہ فوجی پریڈ کے دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،خود صدر الگیزانڈ لوکاشنکو بھی موجود تھے، شرکاء بغیر کسی حفاظتی اقدام کے تقریب میں شریک تھے ،پریڈ کے دوران کسی ایک فرد نے بھی ماسک نہیں پہنا تھا۔

بیلاروس میں ہوٹل اور دکانیں بھی معمول کے مطابق کھلی ہیں، شہریوں پر کوئی اضافی پابندی نہیں ہے۔ لوگ عبادت گاہوں میں بھی جاتے ہیں یہاں تک کہ سالانہ فٹ بال بھی معمول کے مطابق کھیلی گئی۔صدر بیلاروس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے اس قدر ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ خطرناک نہیں ہے، لاک ڈاؤن سے ملکی معیشت کو نقصان ہوگا۔

بیلا روس میں کورونا کی وجہ سے 24 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ 135 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔واضح رہے کہ چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والی موذی وباء کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہیں لیکن حیران کن طور پر بیلاروس ویمن چیمپئن شپ کا آغاز ہوا۔کورونا وائرس کے باعث بیلاروس میں فٹ بال لیگ دو ہفتے تک معطل رہی لیکن گزشتہ ہفتے انتظامیہ نے ویمنز فٹ بال لیگ کا آغاز کر دیا اور اس سلسلے میں کھیلے گئے میچ میں منسک ایف سی نے ڈی نیپر موگلی لیو کو 0-10 سے شکست بھی دی۔

بیلاروس فٹ بال ٹیم کی سٹار کھلاڑی خارلانوا کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں فٹ بال نہیں کھیلی جارہی اور ان حالات میں میچز کا انعقاد ہونا بھی نہیں چاہیے لیکن دوسری جانب منسک فٹ بال ایسوسی ایشن کے چیئرمین ائیگور شلوئیڈا نے کہا کہ کورونا وائرس کیسز میں بہتری کے بعد ہی حکومت نے میچز کی اجازت دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں