کورونا کے معیشت پر منفی اثرات، سعودی وزیر خزانہ کا اہم اعلان

سعودی وزیر خزانہ نے اقتصادی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹیزن اکاؤنٹ بند نہیں ہوگا۔

سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹیزن اکاؤنٹ (حساب المواطن) بند نہیں ہوگا، کرونا کی عالمگیر وبا کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت خصوصی اقدامات کر رہی ہے تاہم ان سے سٹیزن اکاؤنٹ کا سلسلہ متاثر نہیں ہوگا۔

گزشتہ روز سعودی وزیر خزانہ نے امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو انٹرویو میں سٹیزن اکاؤنٹ کے سلسلے کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا، انھوں نے کہا کہ مہنگائی الاؤنس کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے، محدود دورانیے کی وجہ سے اس سے عوام پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا، دوسری طرف حکومت سبسڈی اور اقتصادی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

ان کا مؤقف تھا کہ کرونا وبا سے پیدا شدہ بحران سے نجات حاصل کرنے تک معیشت کو سہارا دینے کے لیے عارضی اقدامات کیے گئے ہیں، حکومت معیشت، مالیاتی پوزیشن کے تحفظ اور صحت نگہداشت کو ترجیح دے رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا ہم اخراجات کو کم کرنے کی بجائے اسے صحیح فریم میں لا رہے ہیں، سٹیزن اکاؤنٹ میں 10 مئی 2020 کو 2.18 ارب ریال جمع کیے گئے ہیں، یہ رقم مقامی شہریوں کو مئی کی سبسڈی کے طور پر تقسیم کی جائے گی، اس کے تحت اب تک 30 قسطیں مقامی شہریوں کو دی جا چکی ہیں، اور مجموعی طور پر 12 ملین افراد اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سٹیزن اکاؤنٹ (حساب المواطن) سعودی حکومت کا کم آمدنی اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کی مالی اعانت کے لیے شروع کیا جانے والا ایک فلاحی پروگرام ہے، جزوی سبسڈی ہٹنے سے مقامی شہریوں کو جو جزوی نقصان ہوا، اس پروگرام کے ذریعے اس کی تلافی ہوگی۔

واضح رہے کہ سعودی وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ جون 2020 سے مہنگائی الاؤنس عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے جب کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس 5 فی صد سے بڑھا کر15 فی صد کیا جا رہا ہے، اس پر عمل درآمد یکم جولائی 2020 سے ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں