یو اے ای کی معیشت تباہی کے دہانے پر، کاروباری افراد نے دل برداشتہ ہوکر کڑا فیصلہ لےلیا

متحدہ عرب امارات میں کورونا کی وبا کے بعد بہت سے کاروباری مراکز کھولنے پر پابندی عائد کی گئی ہے یا ان کی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں، جن میں ریستوران کا کاروبار بھی شامل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سینکڑوں ریسٹورنٹس مالکان نے صورتِ حال سے مایوس ہو کر اپنے ریسٹورنٹس کو فروخت کرنے کے سائن بورڈ لگا دیئے ہیں، کیونکہ ان کا اندازہ ہے کہ کورونا کی وبا کے باعث اگلے چند مہینوں میں بھی ریستوران کا کاروبار بُری طرح متاثر ہو گا۔

مالکان کی جانب سے ریسٹورنٹس کا لائسنس بھی فروخت کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ ساز و سامان اور فرنیچر بھی انتہائی کم داموں پر فروخت کرنے کی پیش کش کی جا رہی ہے تاکہ پریشان حال مالکان کو تھوڑی بہت رقم ہی حاصل ہو جائے۔

ریسٹورنٹ کے کاروبار سے جُڑے ایک شخص نے بتایا کہ زیادہ تر ریسٹورنٹس کرائے کی جگہ پر بنائے گئے ہیں، جن کے مالکان ریسٹورنٹس والوں کوبدترین معاشی صورت حال میں بھی کرایہ معاف کرنے کو تیار نہیں، حتیٰ کہ وہ پُورا پورا کرایہ لینے پر تُلے ہوئے ہیں، جب کہ ریسٹورنٹس کئی ہفتوں سے بند ہونے کے باعث مالی خسارے کا شکار ہیں۔

صرف وہ ریسٹورنٹس جو حکومت کی پراپرٹی پر قائم ہیں، انہیں تین ماہ کے لیے کرایہ معاف کیا گیا ہے یا کرائے میں چھُوٹ دی جا رہی ہے۔ تاہم نجی شعبے کی زمینوں پر بنے ریسٹورنٹس کے زیادہ تر مالکان کرائے میں کوئی رعایت برتنے کو تیار نہیں ہیں۔ جس کے باعث فوڈ اینڈ بیوریج انڈسٹری تباہی کی جانب جا رہی ہے۔

دُبئی میں فوڈ اور بیوریج کے 11 ہزار رجسٹرڈ آؤٹ لیٹس ہیں،موجودہ صورت حال میں یہی لگتا ہے کہ اگلے چند ماہ میں 40 سے 50 فیصد آؤٹ لیٹس ختم ہو سکتے ہیں۔

اس وقت بھی سینکڑوں ریسٹورنٹس مالکان نے اپنا کاروبار بالکل ختم کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ کاروبار چلانے کے لیے ان کے پاس کوئی رقم نہیں بچی۔ اس لیے انہوں نے کاروبار ختم کر دیا ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد متحدہ عرب امارات میں صرف 30 فیصد ریسٹورنٹس دوبارہ کھُلے ہیں، ان میں سے بھی زیادہ تر مالز میں واقع ہیں۔ مگر ان ریسٹورنٹس پر بھی پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ ایک وقت میں اپنے احاطے میں کُل گنجائش کی بجائے صرف 30 فیصد گاہکوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت دیں گے۔

ریسٹورنٹ مالکان کے مطابق سماجی دُوری کے ضوابط کم گاہکوں کو ریسٹورنٹ میں داخل کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں، جتنا بڑا مسئلہ جگہ کے مالکان کی جانب سے بھاری کرائے کا مطالبہ ہے۔

Wrapps نام کا ریسٹورنٹ اسی سال جنوری کے آخری ہفتے میں لانچ کیا گیا تھا، جس نے گاہکوں کی خاصی توجہ حاصل کر لی تھی۔ تاہم اس کی مالکہ نیاتی پٹیل نے بتایا ہے کہ اس نے دس ہفتوں تک ریسٹورنٹ بہت اچھے طریقے سے چلایا تاہم اس کے بعد کورونا کی وجہ سے جو بحران جنم لیا، اس سے اس کا کاروبار متاثر ہوا۔

اس نے پراپرٹی کے مالک سے کرایہ معاف کرنے کی درخواست کی جو منظور نہیں گئی۔ آخرکار وہ اپنا بہترین ریسٹورنٹ بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں