کورونا وائرس: سعودی عرب میں صورتحال خطرناک، گھروں میں دعوتوں اور آنے جانے کا رجحان بڑھ گیا

سعودی وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کرفیو کے باعث باہر نکلنے والے افراد کی تعداد میں تو کمی آئی ہے تاہم گھروں میں دعوتوں اور آنے جانے کا رجحان بڑھ گیا ہے جو خطرناک صورتحال ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی معاشرے میں گھروں پر آنا جانا لگا رہتا ہے، اشیائے ضرورت کے لیے تجارتی مراکز جانے کا تناسب تشویش ناک حد تک بڑھا ہوا ہے۔

العبد العالی نے کا کہنا ہے کہ تفریحات، مارکیٹ، فارمیسی اور دفاتر کے لیے آمد و رفت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے البتہ گھروں میں آمد و رفت بڑھ گئی ہے، ان کے مطابق گھروں سے باہر گھومنے پھرنے والوں کا تناسب 40 فیصد سے زیادہ پایا جارہا ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان نے کہا کہ یہ شرح بے حد تشویش ناک ہے، تمام سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے نام میرا پیغام یہی ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا، گھروں میں جمع ہونا اور پارٹیاں کرنا بے حد خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اوقات میں جب کرفیو نہ ہو تو گھر سے باہر نکلے کی اجازت ہو تب بھی انتہائی ضرورت کے تحت ہی نکلا جائے کیونکہ باہر نکلنا پر خطر ہے۔

وزارت صحت کے ترجمانن کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹنگ اور تفریحات کے لیے آنے جانے والوں کا تناسب 54 فیصد ہے جبکہ فارمیسیوں اور خوراک کے لیے باہر نکلنے والوں کا تناسب 24 فیصد ہے، علاوہ ازیں دفاتر جانے والوں کی تعداد 45 فیصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں