امریکا کی دھمکی رنگ لے آئی، افغان حکومت طالبان کے قیدیوں کی رہائی کے لئے مان گئی

امریکا کی جانب سے امداد روکنے کی دھمکی کام کر گئی، افغان حکومت طالبان کے قیدیوں کی رہائی کے لئے مان گئی اور رہائی کا عمل اکتیس مارچ سے شروع ہوگا۔

افغان حکومت افغان طالبان کے قیدیوں کی رہائی کے لئے مان گئی۔ ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ فیصلہ امریکا، قطر، افغان حکومت، ہلال احمر اور طالبان کی ویڈیو کانفرنس میں کیا گیا، اس کانفرنس کے ثمرات کا آغاز بگرام جیل سے قیدیوں کی رہائی سے ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رہائی امریکی حکام کو فراہم کردہ پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی فہرست کے مطابق ہوگی۔

افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ بین الاافغان مذاکراتی ٹیم نامزد کر دی، اس ٹیم کے بیس ارکان طالبان سے مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے،
مذاکراتی ٹیم میں تمام افغان پارلیمنٹرینز کی نمائندگی شامل ہے۔ جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سنتیس فروری کے دوحہ امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا ہے، ان پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔ قیدیوں کی رہائی کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کا آغاز ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں