سعودی عرب میں کرفیو سے متعلق نیا شاہی فرمان کیوں جاری ہوا؟ اہم خبر سے سعودی شہری پریشان

سعودی عرب نے کورونا وائرس سے بچاؤ کرفیو کے اوقات میں اضافہ کردیا اور اوقات دوپہر3بجے سے صبح 6بجے تک کر دیئے گئے ہیں، اقدامات کا نفاذ کل سے ہوگا۔

سعودی عرب نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں، مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ سمیت ریاض میں کرفیو کے اوقات میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے نئے اقدامات کی منظوری دے دی ہے، شاہی فرمان میں کہا ہے کہ ’مذکورہ تینوں شہروں ( ریاض، مکہ اور مدینہ ) میں کرفیو کے اوقات دوپہر3بجے سے صبح 6بجے تک کردیئے گئے ہیں ، یہ اقدامات کل سے نافذ کیے جائیں گے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے13علاقوں کےرہائشیوں کو دوسرے علاقوں کادورہ کرنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے، سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل طلال الشہلوب کا کہنا تھا کہ کرفیو میں ایک شہر سے دوسرے شہر آنا جانا بھی منع ہے۔

ان کے مطابق بعض افراد یہ سمجھ رہے ہیں کہ کرفیو کا دائرہ شہروں، قصبوں اور آبادیوں تک محدود ہے جبکہ ایک شہر سے دوسرے شہر آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں، یہ سمجھنا غلط ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے وارننگ دی تھی کہ اگر کوئی شخص ایک شہر سے دوسرے شہر کرفیو کے دوران سفر کرتا ہوا پایا گیا تو اس پر خلاف ورزی کا جرمانہ لگایا جائے گا۔

خیال رہےخادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی صحت اور سلامتی کی خاطر 21 دن کے لئے رات میں کرفیو نافذ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

رات کے کرفیو کے لئے شاہی فرمان میں کہا گیا تھاکہ ’کرفیو روزانہ شام سات سے صبح چھ بجے تک 21 دن جاری رہے گا‘ جبکہ شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو کرفیو اوقات کے دوران اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں