کورونا وائرس کے خلاف عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کے لئے سیاسی قائدین میدان میں

عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کے لئے سیاسی قائدین اپنا کردار ادا کر نے میں مصروف ہیں،برطانیہ، فرانس، نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن، اجتماعات پر پابندی عائد کر گئی،، کینیڈین وزیر اعظم کہتے ہیں گھر پر رہ کر اپنی اور دوسروں کی زندگی بچائیے۔

دنیا بھر میں متعدد ممالک جان لیوا وبا کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں،، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے قوم سے خطاب میں کہا کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ تین ہفتوں کے لیے عملی طور پر بند رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے مزید سخت اقدامات کر رہے ہیں۔ عوام کو صرف ضروری اشیا کی خریداری، کام پرجانے کی اجازت ہو گی۔ غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے والے افراد پر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے متعلق ایک پیغام میں کہا کہ جن لوگوں کو لگتا ہے کہ انہیں کچھ نہیں ہوگا ، ایسا نہیں ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ گھروں پر رہیں۔ ایسا نہ کرنے کے باعث وہ نہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے کہا کہ اپریل میں اہم مذہبی تقریبات اجتماعات کے بغیرکرنا ہوں گی،، کیونکہ ہم جس طرح کوروناوائرس سے متاثرہیں وہ اتنی جلدی ختم ہونا مشکل لگتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
نیوزی لینڈ کی وزیرعظم نے ملک میں لاک ڈاﺅن کرنے کا اعلان کیا،وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے شہریوں کی نقل وحرکت پر زیادہ پابندیاں عائد کی جائیں گی۔کہا ہمارے پاس بہترین موقع ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار سست کی جائے اور زندگیاں بچائی جائیں۔

اسکول منگل سے بند کئے جائیں گے ،،جبکہ سپر مارکیٹس، ڈاکٹرز، فارمیسز اور سروس سٹیشنز کھلے رہیں گے۔متحدہ عرب امارات میں بھی جزوی لاک ڈاؤن اور تمام فلائٹ آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کردیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں