کورونا وائرس کیسز: کیا برطانیہ بھی اٹلی بننے کے قریب؟ جانیے خصوسی رپورٹ

برطانیہ بھی چین، اٹلی اور ایران کے بعد اب اسپین کے ساتھ ساتھ مہلک وائرس کورونا کی وبا کا مرکز بننے کے قریب ہے، اس حوالے سے خود برطانوی حکام نے انکشاف کردیا۔

برطانوی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق اٹلی، چین اور ایران سے برطانیہ کے لیے پروازوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں کسی طرح کی بندش ابھی تک دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ تاہم اب برطانیہ کے لاک ڈاؤن میں جانے کے بعد بھی وہاں پر چین، اٹلی اور ایران سے فلائٹس برطانیہ آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق ہفتے میں دو مرتبہ روم، بیجنگ اور شنگھائی سے پروازیں لندن پہنچ رہی ہیں جن کی وجہ سے ملک میں کورونا کے کیسز میں اضافے کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ چین، ایران اور اٹلی ہی وہ ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ کورونا کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دنیا میں ہونے والی زیادہ اموات بھی ان ہی ممالک میں ہوئی ہیں۔

ان ممالک سے واپس برطانیہ پہنچنے والے افراد میں ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی نشانیاں موجود ہوسکتی ہیں، جبکہ انہیں 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جانا چاہیے، تاہم اب تک برطانیہ میں یہ پالیسی دیکھنے میں نہیں آئی۔

واضح رہے کہ یورپین یونین نے اپنے لوگوں کو آئندہ 30 روز کے لیے یورپ سے باہر جانے سے روک دیا تھا، تاکہ اس بیماری کو بڑھنے سے مزید روکا جاسکے جہاں پہلے ہی یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملک سے باہر سفر نہ کریں، ایسا کرنے سے ملک میں کورونا کی وبا مزید پھیل سکتی ہے۔

برطانیہ کی سابق وزیر نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ فلائٹ کا معاملہ فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران سے فضائی راستے بند کر دیے جائیں، یہ معاملہ میں نے سیکریٹری خارجہ کے سامنے اٹھایا ہے۔

ادھر حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ سرحدیں بند کرنے اور فضائی پابندی لگانے پر اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں