امریکی سینیٹر رینڈ پال بھی کورونا وائرس کا شکار

امریکی سینٹ کے رُکن میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی سینیٹر رینڈ پال اس مرض میں مبتلا ہونے والے پہلے امریکی سینیٹر ہیں۔

اتوار کو سینیٹر رینڈ پال کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کی گئی ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست کینٹیکی کے ریپبلکن سینیٹر میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں تاہم تواتر سے سفر کرنے اور تقریبات میں شرکت کے باعث احتیاطاً ان کا ٹیسٹ کیا گیا جس کے نتائج میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر نے کورونا وائرس سے متاثرہ کسی فرد سے براہ راست رابطے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ٹوئٹ کے مطابق سینیٹر رینڈ پال کو قرنطینہ کردیا گیا ہے اور وہ گھر پر رہ کر ہی دفتری کام انجام دیں گے۔

دوسری جانب امریکا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے سنگین حالات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کورونا وائرس کی وبا کو1930 کی دہائی میں آنے والے معاشی بحران جیسی آفت قرار دیا ہے۔

انہوں نے صحت عامہ کے نظام کو مزید دباؤ سے بچانے کے لیے امریکی فوج کو متحرک کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ نیویارک شہر میں امریکا کے مجموعی متاثرین کی ایک تہائی تعداد موجود ہے۔

میئر کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ دس دنوں میں مزید وینٹی لیٹر دست یاب نہیں ہوئے تو ایسے لوگوں کی ہلاکت بھی ہوسکتی ہے جن کی حالت زیادہ تشویش ناک نہیں۔

امریکا میں کورونا وائرس کے 25ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 340 تک پہنچ گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں