بھارت میں مسلم مخالف نفرت عروج پر، مسجدوں کو بھی نشانہ بنا ڈالا۔۔۔ انتہائی افسوسناک خبر آگئی

بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کیخلاف ظلم و جبر کے باوجود شہر شہر مظاہرے تھم نہ سکے۔

بھارت کے صوبہ تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے شہر بھینسہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ عادل آباد کے مسلم اقلیتی علاقہ میں قتل و خون کا بازار گرم ہوگیا۔ علاقے میں مسلمان کسی اجتماع میں شریک تھے کہ ہندو انتہا پسندوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر مسجد پر دھاوا بول دیا۔

مسجد پر پتھراﺅ کیا اور موذن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مسلمانوں کے گھروں کو جلا دیاگیا جس میں تقریباً 35 گھروں کے جلنے کی خبر آئی ہے۔ پورا شہر فوجی چھاونی میں تبدیل ہو چکا ہے۔انٹرنیٹ سروس معطل ہو چکی ہے۔

ادھر مغربی بنگال میں بی جے پی کے صدر اور رکن اسمبلی دلیپ گھوش نے ریلی سے خطاب میں کہا ہے کہ جن ریاستوں میں ان کی جماعت بی جے پی کی حکومت ہے وہاں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو گولیاں ماری گئیں۔

مزید پڑھیں: مودی سرکار کی آگئی شامت، متنازعہ شہریت بل میں آگیا اہم موڑ۔۔۔ عالمی دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی

واضح رہے کہ بھارتی ریاست کیرالہ کی حکومت متنازعہ شہریت قانون کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی، کیرالہ حکومت کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ متنازعہ شہریت قانون بھارتی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے، یہ قانون سیکولرازم کے بنیادی اصول کی بھی نفی کرتا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ متنازعہ شہریت بل کو کالعدم قرار دیا جائے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں