فرانس، جرمنی، برطانیہ کا ایران جوہری معاہدے پرعزم کا اظہار، امریکی صدر پر تھرتھلی مچ گئی

ایران جوہری معاہدے کے مشترکہ ایکشن پلان کے سلسلے میں فرانس، جرمنی، برطانیہ نے عزم کا اظہار کیا، انہوں نے ایران سے اپیل کی کہ ایسی سبھی سرگرمیوں کو ختم کریں جس سے اس جوہری معاہدے کو نقصان پہنچتا ہو۔

فرانس کے صدر امینوئل میكرون، جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اور برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے کے مشترکہ ایکشن پلان کے سلسلے میں پر عزم ہیں۔ تینوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ جےسي پي او اے اور اس کے تحفظ کے سلسلے میں پابند عہد ہیں، انہوں نے ایران سے ایسی سبھی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی اپیل کی جس سے اس جوہری معاہدے کو نقصان پہنچتا ہو۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران سے یورینیم کی افزودگی کو آگے نہ بڑھانے اور خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لئے مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہزار اٹھارہ میں ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا اور امریکہ نے ایران پر کئی طرح کی پابندیاں بھی عائد کیں۔

اس سے قبل سال دو ہزار پندرہ میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے، معاہدے کے تحت ایران نے اُس پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں