ایرانی صدر کا یوکرینی صدر سے اہم رابطہ، یوکرینی طیارے سے متعلق اندرونی کہانی نے خطے میں ہلچل مچادی

ایران کے صدر حسن روحانی نے مسافر طیارہ گرنے کے بعد یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینس کے سے رابطہ کیا اور اُن سے تعزیت کا اظہار کیا، یوکرینی صدر نے ایرانی فوج اور تحقیقاتی اداروں کی کاوشوں کو قابل ستائش قرار دیا کہ انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینس نے ایرانی صدر حسن روحانی سے کہا کہ طیارہ تباہ ہونے کا معاملہ دو ممالک کے درمیان ہے،ہمیں یقین ہے کہ ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ایران سخت کارروائی کرے گا، تکینیکی ماہرین بھی عالمی معیار کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کریں گے۔

حسن روحانی نے اپنی جانب سے یوکرین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ’میں نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کردیں کہ وہ اس معاملے پر تحقیقاتی ٹیم بنائیں جس میں یوکیرین کے ماہرین بھی شامل ہوں گے تاکہ ہم اچھے انداز سے معاملے کی تہہ تک جاسکے‘۔

دونوں ممالک کے سربراہان نے خارجی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا جبکہ یوکرینی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں ایران جلد ہی اُن کے حوالے کردے گا۔

ایران اور یوکرین کے صدور نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مسافر طیارہ تباہ ہونے سے قبل دونوں ممالک کے جیسے تعلقات تھے، اُسی سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا تاکہ کشیدگی کو ختم کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں