11

اردن سے دل دہلا دینے والی خبرآگئی۔۔۔آتشزدگی میں کتنے پاکستانی جاں بحق؟

انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آگ کسی شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی۔

وادی اردن میں زرعی زمین پر عارضی رہائش گاہوں پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں 8 بچوں سمیت 13 پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے۔

اردن کے محکمہ شہری دفاع کے ترجمان ایاد العمر نے ایک بیان میں کہا کہ رات گئے بھڑکنے والی آگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آگ کسی شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی۔

خیال رہے کہ وادی اردن کے سبزیوں اور پھلوں کے لیے ذرخیز علاقے میں نجی فارمز میں ہزاروں غیرملکی مزدور انتہائی خراب حالات میں مقیم ہیں۔

اردن کے محکمہ شہری دفاع کے ایک اور ذرائع نے کہا کہ ٹین کی چادروں سے بنے گھروں میں تارکین وطن مزدوروں کے 2 خاندان رہائش پذیر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

آگ لگنے کے نتیجے میں جھلسنے ہونے والے 3 افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی انادولو کے مطابق واقعہ اردن کے مشرقی علاقے کرامے میں ایک گھر میں آگ لگی جہاں 2 پاکستانی خاندان مقیم تھے اور فائر فائٹرز کی جانب سے قابو پانے سے قبل ہی آگ نے گھر کو لپیٹ میں لے لیا۔

دفتر خارجہ کی تصدیق

بعد ازاں پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی اردن میں آتشزدگی کے واقعے میں 13 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں 7 بچے، 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جبکہ 3 افراد زخمی بھی ہوئے جن کی حالات خطرے سے باہر ہے۔.

بیان میں کہا گیا کہ آگ رات گئے 2 بجے شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور اس وقت جاں بحق تمام افراد متاثرہ ٹینٹ میں مقیم تھے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے ہے، علی شیر جویا اور ان کا خاندان 1970 کی دہائی میں اردن منتقل ہوا تھا اور زراعت کے شعبے سے وابستہ تھا، جبکہ خاندان کا سربراہ علی شیر جویا آتشزدگی میں محفوظ رہا۔

خیال رہے کہ حالیہ چند سالوں میں موسم سرما میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بجلی کے فالٹس اور گیس کے چولہے سے دم گھٹنے سے کئی جان لیوا حادثات پیش آئے ہیں۔

اس سے قبل 16 اور 17 اکتوبر کے درمیان سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ کے قریب بس حادثے کے نتیجے میں 35 زائرین جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔

مدینہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ کہ حادثہ مدینہ منورہ سے 170 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حجرہ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب نجی بس مسافروں کو لے کر جارہی تھی کہ راستے میں ایک لوڈر سے ٹکرا گئی۔

بعدازاں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے گ مدینہ منورہ کے قریب بس حادثے میں 12 پاکستانیوں کی موت کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ ڈی این اے و دیگر کارروائی کے بعد اس کی تصدیق ہوسکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں