سعودی تیل تنصیبات پر حملے: ذمہ دار ٹھہرانے پر ایران کا یورپی یونین کو بھی کرارا جواب

یورپی ممالک کی جانب سے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے بعد ایران کا ردعمل سامنے آگیا۔

ایران نے یورپی ملکوں کے الزام کے بعد کسی نئی جوہری ڈیل کا امکان رد کردیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ موجودہ جوہری معاہدے کی پاسداری نہ ہوئی تو کوئی نئی ڈیل نہیں ہوگی۔

سعودی تیل تنصیبات پر حملے کا ذمہ دار ٹھرانے پر ایرا ن کا کہنا ہے کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ بغیر سوچے سمجھے امریکا کے بے بنیاد دعوؤں کو دہرا رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا کے مضحکہ خیز دعوؤں کو دہرانے کے بجائے آزادانہ سوچ کے تحت ایک نئی راہ کا تعین کیا جائے۔

جواد ظریف نے کہا کہ جب تک موجودہ معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوتا تب تک کسی نئی ڈیل پر بات نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے گزشتہ روز مشترکہ بیان میں سعودی تیل تنصیبات پر حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے لانگ ٹرم فریم ورک، اپنے میزائل پروگرام اور خطے میں امن کے قیام کیلئے مذاکرات کو تسلیم کرے۔

سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کا پس منظر

یاد رہے کہ 14 ستمبر 2019 کو سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر حملے کیے گئے تھے جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ عبقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری یمن میں حکومت اور عرب عکسری اتحاد کے خلاف برسرپیکار حوثی باغیوں نے قبول کی تاہم امریکی صدر نے ٹوئٹس میں اشارہ دیا کہ امریکا جانتا ہے کہ یہ حملے کس نے کیے لیکن وہ سعودی عرب کے جواب کا انتظار کررہا ہے کہ وہ کسے ذمہ دار سمجھتا ہے۔

اس کے بعد عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کا بیان سامنے آگیا جس میں انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے یمن سے نہیں کہیں اور سے ہوئے اور اس میں ایرانی ہتھیار استعمال ہوئے۔

ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے ایران سے ہوئے اور اس میں کروز میزائل استعمال کیے گئے۔

اس کے بعد 18 ستمبر کو سعودی عرب کی جانب سے تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے گئے۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حملوں میں 18 ڈرونز اور 7 کروز میزائل جس سمت سے استعمال کیے گئے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حملے یمن سے نہیں ہوئے۔

کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ملنے کے جانچ سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ حملے شمال کی جانب سے کیے گئے اور بلاشبہ اسے ایران نے ‘اسپانسر’ کیا۔

21 ستمبر کو امریکا نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر مزید فوجی دستے اور سازو سامان بھیجنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی امریکا نے ایران کے مرکزی بینک اور دو مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کیں جنہیں واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اب تک کی سب سے بڑی معاشی پابندیاں قرار دیا گیا۔

اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے خبردار کیا ہے کہ ایران جارحیت کرنے والے ملک کو تباہ کرنے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس ملک نے بھی ایران پر حملہ کیا اسے ہی میدان جنگ بنادیں گے، ہم کسی بھی جارحیت کرنے والے ملک کا مسلسل تعاقب کریں گے اور اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ مکمل تباہ نہ ہوجائے لہٰذا محتاط رہیں اور غلطی نہ کریں۔

اس تمام تناظر میں ایران نے مؤقف اپنایا کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ یمن میں عرب عسکری اتحاد کی کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں