افغان فورسز نے شادی کی تقریب میں کیوں اور کیسے حملہ کیا؟ جس سے 40 افراد ہلاک ہوئے، حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

افغانستان کے صوبے ہلمند میں امریکا اور افغان فورسز کے مشترکہ حملے میں شادی میں شریک 40 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان اسپیشل فورسز نے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ میں طالبان کے ٹھکانے پرمشترکہ کارروائی کی ، اس دوران افغان فورسز کو امریکا کی جانب سے فضائی مدد حاصل تھی۔

مقامی حکومتی عہدیدار عبدالمجید اخوند نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے وقت قریب ہی شادی کی تقریب بھی جاری تھی جو اس حملے کی زد میں آگئی، ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

عبدالمجید اخوند کے مطابق حملے میں 40 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ہلمند صوبے کے گورنر کے ترجمان عمر زواک نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں عام شہریوں کے علاوہ 14 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جن میں 6 غیر ملکی بھی شامل ہیں تاہم ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے اور اس حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے افغان فورسز پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان اور اس کی اتحادی افواج کے ہاتھوں رواں سال کی پہلی سہہ ماہی میں طالبان اور دیگر جنگجوؤں کے مقابلے میں زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے۔

ایک حالیہ واقعہ گذشتہ جمعے کو بھی پیش آیا تھا جب افغان فورسز نے صوبہ ننگر ہار کے ضلع خوگیانی میں امریکی فورسز کی مدد سے ڈرون حملہ کیا جس کی زد میں آکر 30 شہری ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں