بین الاقوامی

روس نے امریکا پر الزام عائد کر دیا

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا پر روس کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے آن لائن ووٹنگ سسٹم پر سائبر حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق 15 سے 17 مارچ تک ہونے والے صدارتی انتخابات میں پیوٹن کی جیت تقریباً یقینی ہے اور روس نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے بیلٹ میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کو جارحیت تصور کیا جائے گا۔

روس کی فارن انٹیلی جنس سروس نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے پاس ایسی معلومات ہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ انتخابات میں مداخلت کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی فیڈریشن کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کی طرف سے موصول معلومات کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ نے روسی انتخابات میں ٹرن آؤٹ میں کمی کے لیے امریکی این جی اوز کو ٹاسک سونپا ہے۔

روس کی فارن انٹیلی جنس سروس نے کہا کہ معروف امریکی آئی ٹی ماہرین کی مدد سے ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر سائبر حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے روسی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی درست شرح کی گنتی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

تاہم ایجنسی نے اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جبکہ اس حوالے سے فوری طور پر امریکا کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مغربی ممالک پیوٹن کو ایک آمر، ایک جنگی مجرم اور ایک قاتل کے طور پر دیکھتے ہیں جن کا ماننا ہے کہ پیوٹن روس کی سامراجی طرز پر حکمرانی کررہے ہیں اور ان کے اس انداز حکومت نے روس کو کمزور کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنی طاقت کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ہوئے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔

دوسری جانب ولادمیر پیوٹن اس جنگ کو روسی تہذیب اور ایک متکبر مغرب کے درمیان روس کے وجود کے لیے اہم تصور کرتے ہیں۔

کریملن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ روس نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت نہیں کرے گا اور اس 2016 اور 2020 کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے امریکی الزامات کو مسترد کردیا۔

Related Articles

Back to top button