بین الاقوامی

بھارت: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکا، 8 افراد ہلاک، 80 زخمی

بھارت میں آتش بازی کا سامان بنانے والی کمپنی میں بڑے دھماکے سے کم از کم 8 افراد ہلاک اور 80 دیگر زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی نشریاتی اداروں کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فائر کریکر پلانٹ میں دھماکے کے بعد آگ کے بُلند شعلے اٹھ رہے ہیں، جبکہ ہسپتال کے حکام نے 8 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

درجنوں ایمبولینسوں اور فوجی ہیلی کاپٹروں کو زخمیوں کو نکالنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ہردا ہسپتال کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ اب تک 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، مزید کہا کہ ہسپتال میں 65 زخمی افراد کو داخل کیا گیا ہے جبکہ 10 دیگر کو بڑے ہسپتالوں کو بھیجا گیا ہے۔

فیکٹری سے ریسکیو کی کوششوں میں معاونت کرنے والے سینئر ضلعی عہدیدار کلاش چاند نے بتایا کہ 15 فائر ٹینڈر آگ پر قابو پانے کی کوششیں کررہے ہیں۔

انہوں نے میڈیاکو بتایا کہ کم از کم 8 افراد شدید زخمی ہیں، ہم جائے حادثہ پر ریسکیو پر توجہ دیے ہوئے ہیں اور لوگوں کو ہسپتال بھیج رہے ہیں، لہٰذا فوری طور پر ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں تصدیق نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مختلف نوعیت کے زخمی 70 سے 75 افراد کو ریسکیو کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تمام افراد کو فوری طور پر مقامی سرکاری ہسپتال میں بھیج دیا گیا ہے۔

سینئر ضلعی عہدیدار کلاش چاند نے کہا کہ فیکٹری میں تقریباً 200 سے 300 افراد کام کرتے ہیں، تاہم یہ نہیں معلوم کہ دھماکے کے وقت کتنے افراد اندر موجود تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شدید دھماکے کے نتیجے میں کمپلیس کے قریب تقریباً 10 عمارتوں کو نقصان پہنچا، آگ اب بھی بے قابو ہے، جبکہ 15 فائر ٹینڈرز اور ریسکیو کا عملہ سائٹ پر موجود ہے۔

بھارت میں غیرقانونی آتش بازی کا سامان بنانے والی کمپنیوں میں اکثر دھماکے ہوتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادیو نے کہا کہ دھماکے کی رپورٹس ’انتہائی افسردہ‘ ہیں، مزید کہا کہ قریب کے بڑے ہسپتالوں کے برن یونٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ضروری اقدامات کریں۔

موہن یادیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ گردونواح کے علاقوں سے ایمبولینسیں فوری طور پر ہردا پہنچیں، اور آرمی کے ساتھ ہیلی کاپٹروں کا انتظام کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کم از کم 20 ایمبولینسیں جائے حادثہ پر موجود ہیں، جبکہ مزید 50 کو زخمیوں کی مدد کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button