امان اللہ خان کو مداحوں سے بچھڑے ایک سال بیت گیا

امان اللہ خان کو مداحوں سے بچھڑے ایک سال بیت گیا

کامیڈی کے شہنشاہ اور تھیٹر کے بے تاج بادشاہ امان اللہ خان کو مداحوں سے بچھڑے ایک سال بیت گیا ہے۔امان اللہ خان کے چہرے پر سنجیدہ تاثرات ہوتے تھے لیکن حاضر جوابی اور ایسا برجستہ جملہ باشی ایسی ہوتی تھی کے سننے والے ہنس ہنس کو لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے۔

بے مثال اداکاری اور جداگانہ انداز سے کئی دہائیوں تک لوگوں کو ہنسانے والے امان اللہ نے 1950 میں لاہور میں جنم لیا۔

انہوں نے 1969 ميں باغ جناح کے اوپن ائير تھيٹر سے فنی سفر کا آغاز کيا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کامیڈی کنگ نے سينکڑوں اسٹيج ڈراموں ميں جو بھی کردار نبھایا اسے امر کر ڈال۔

امان اللہ کے اسٹيج ڈراموں شرطيہ مٹھے، محبت سی اين جی، بڑا مزا آئے گا، بيگم ڈش انٹينا اور کھڑکی کے پيچھے نے مقبوليت کے ريکارڈ قائم کئے۔

معروف کامیڈین نسیم وکی نے ہم نیوز سے گفتگو کے دوران امان اللہ کو فن کا گہوارہ قرار دیا اور کہا کہ ان کا انداز ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ امان اللہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ان کا فن امانت ہے۔ عظیم فنکار کی صاحبزادیاں والد کے ساتھ گزرے لمحات کو زندگی کا سرمایہ قرار دیتی ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں