معروف شاعر منیر نیازی کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس بیت گئے

معروف شاعر منیر نیازی کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس بیت گئے

پاکستان کے معروف شاعر منیر نیازی کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس بیت گئے، جنگل میں قوس قزح کے رنگ، تیز ہوائیں، اکیلے پھول اور چاند کی خوبصورتی کو الفاظ میں سمونے والے منیر نیازی کی شاعری آج بھی اہل ذوق کے دلوں میں زندہ ہے۔منیر نیازی نو اپریل 1928 کو ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں…

انہوں نے برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور کا رخ کیا اور یہیں رہائش پذیر ہو گئے۔

منیر نیازی کا شمار اردو اور پنجابی کے بلندپایہ شاعروں میں ہوتا ہے، اردو کے معروف ادیب اشفاق احمد نے منیر نیازی کی ایک کتاب میں ان پر مضمون میں لکھا ہے کہ منیر نیازی کا ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ ذہن کے پردے سے ٹکراتاہے اور اس کی لہروں کی گونج سے قوت سامعہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

منیر نیازی کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر محمد افتخارشفیع اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔ منیر نیازی بیسویں صدی کی اردوشاعری کی اہم ترین آواز ہیں۔

ان کی شاعری میں ماضی کی دھندلاہٹ میں گم کچھ مناظر اورکھوئے رشتوں کی آہٹیں ہیں جو پڑھنے والے دل پر دستک دیے بغیر نہیں لوٹتیں۔

منیر نیازی کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔

ان کے اردو مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں