ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی؟ منفرد اسلوب کےشاعر کو مداحوں سے بچھڑے 18 برس بیت گئے

ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی؟ منفرد اسلوب کےشاعر کو مداحوں سے بچھڑے 18 برس بیت گئے

منفرد اسلوب اور دھیمے لب ولہجے کے معروف شاعر جون ایلیا کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 18 برس بیت گئے۔

اردو میں شاعروں کی کوئی کمی نہیں، ایسے حالات میں کسی ایسے شاعر کا اپنا الگ مقام بنا لینا حیران کن ہے جس کا پہلا شعری مجموعہ ان کی زندگی کے 60ویں برس سے پہلے شائع نہیں ہو سکا۔

جون کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ عشق و محبت کے موضوعات کو اردو غزل میں دوبارہ اور منفرد آہنگ کے ساتھ لے آئے۔

غزل کا روایتی مطلب بے شک ’عورتوں سے باتیں کرنا‘ ہو، لیکن عالمی تحاریک، ترقی پسندی، جدیدیت، وجودیت اور کئی طرح کے ازموں کے زیرِ اثر جون ایلیا کی نسل کے بیشتر شاعروں کے ہاں ذات و کائنات کے دوسرے مسائل حاوی ہو گئے۔

جون ایلیا 14 دسمبر 1971 میں بھارتی شہر امروہہ کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے بھائی رئیس امروہوی بھی نمایاں شاعر تھے اور انھوں نے جنگ اخبار میں روزانہ قطعہ لکھ کر شہرت حاصل کی۔

جون کے ایک اور بھائی سید محمد تقی تھے جو نامور صحافی ہو گزرے ہیں۔ ۔اس کے علاوہ جون کے بھانجے صادقین تھے۔ جو ممتاز مصور اور خطاط ہونے کے ساتھ رباعی کے عمدہ شاعر بھی تھے۔

جون ایلیا کو اقدار شکن، نراجی اور باغی شاعر کہا جاتا ہے۔ان کا حلیہ اور زندگی سے لاابالی رویے بھی اس کی غمازی ہوتی تھی۔

جون ایلیا کی کل چھ کتابیں ہیں لیکن ان میں سے پانچ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔ ان کو دار فانی سے کوچ کیے سترہ برس بیت چکےہیں۔

جون ایلیا کی شاعری کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ وہ اپنے محبوب سے براہ راست مخاطب ہونا پسند کرتے تھے۔ انھوں نے دوسرے شاعروں کی طرح بادلوں، ہواؤں اور پھول و خوشبو کو ذریعہ خطابت بنانے سے پرہیز کیا۔

جون ایلیا کو ان کی زندگی کے بعد زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس میں ان کے خاص دوست خالد احمد انصاری کا اہم مقام ہے کیونکہ 8 نومبر 2002 میں جب جون کا انتقال ہوا تھا اس وقت ان کا محض ایک شعری مجموعہ یعنی ’شاید‘ ہی منظر عام پر آیا تھا، بعد ازاں ’یعنی‘ 2003 میں اشاعت پذیر ہوا جس کی ترتیب جون ایلیا نے خود کی تھی لیکن شائع نہیں کرا پائے تھے۔

اس کے بعد کئی شعری مجموعے خالد احمد انصاری کی کوششوں سے منظر عام پر آئے اور جون ایلیا پوری دنیا میں چھا گئے۔

مشاعروں میں شرکت کرنے کی وجہ سے شروع میں لوگ انھیں صرف غزلوں کا شاعر تصور کرتے تھے لیکن وہ نظموں اور قطعات کے شاعر بھی ہیں، اس کا اندازہ لوگوں کو ان کے شعری مجموعوں کی اشاعت کے بعد ہوا۔

جون ایلیا کی کل چھ کتابیں ہیں لیکن ان میں سے پانچ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔ ان کو دار فانی سے کوچ کیے 18 برس بیت چکے ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں