تصویر دیکھئے، اب اس طرح‌ مصافحہ کرنا ہو گا۔ مگر کیوں؟ اہم وجہ سامنے آگئی

اس وقت دنیا کورونا وائرس کی شکل میں‌ ایک خوف ناک حقیقت کا سامنا کر رہی ہے جس میں‌ مصافحہ کی رائج اور معروف شکل سے گریز اور میل جول سے بچنے میں‌ ہی عافیت ہے۔

احمد فراز کی غزل کا یہ شعر ہینڈ شیک ملک میں مادّہ پرستی، مفاد سے جڑ بناوٹیے تعلقات، کاغذی رشتوں، قربت اور تصنع سے بھرپور میل جول کی لفظی عکاسی کرتا ہے، اور بتاتا ہے کہ گرم جوشی سےہاتھ ملانے مصافہ کرنے والے سبھی لوگ ہم سے مخلص اور دوست نہیں‌ ہوتے بلکہ ہماری طرف بڑھا ہوا اُن کا ہاتھ، پُرتپاک انداز اکثر ایک رسم کی تکمیل اور سماجی تعلق نبھانے کی کوشش سے زیادہ نہیں‌ ہوتا۔

 تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

یہ تو ایک عام حقیقت ہے، لیکن اس وقت دنیا کورونا وائرس کی شکل میں‌ ایک خوف ناک حقیقت کا سامنا کر رہی ہے جس میں‌ مصافحہ کی رائج اور معروف شکل سے گریز اور میل جول سے بچنے میں‌ ہی عافیت ہے۔

طبی ماہرین کی ہدایات پر دنیا بھر میں‌ لوگ مصافحہ کرنے یا ہاتھ ملانے سے اجتناب برت رہے ہیں، لیکن ملاقات کے وقت گرم جوشی اور اپنائیت کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے، اور دنیا نے اس کا حل نکال لیا ہے۔

اس تصویر میں‌ آپ “ہینڈ شیک” کے مختلف مگر نئے انداز دیکھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں