کاروباری خبریں

مالی سال 22 میں ترسیلات زر 30 ارب سے 32 ارب کے درمیان ھونگی، اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اعلان کیا ہے کہ ترقی کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔ مرکزی بینک کی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان رکاوٹوں میں اہم فصلوں (خاص طور پر کپاس) کی پیداوار میں مسلسل کمی شامل ہے۔

مزید کہا گیا کہ درآمدات کی ناکافی کوریج، لیبر کی کمی اور گرتی ہوئی پیداواری صلاحیت، جمود کا شکار ٹیکس – جی ڈی پی تناسب، سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی اور پاور سیکٹر کا بڑھتا ہوا مالی بوجھ بھی معاشی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ بعنوان ’دی اسٹیٹ آف پاکستان اکانومی‘ میں مالی سال 2022 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 4 سے 5 فیصد کی حد میں رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مشینری اور خام مال کی درآمدات میں نمایاں اضافہ، صارفین کی مالی اعانت میں مسلسل توسیع اور مقامی سطح پر فروخت میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ مالی سال 22 کے ابتدائی مہینوں کے دوران خاطرخواہ طلب کی وجہ سے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طلب اور رسد دونوں چینلز سے ترقی کے اعلیٰ نتائج میں حصہ ڈالنے کی توقع تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 22 کے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات میں تیزی سے توسیع کا تعین کیا گیا ہے جس سے تعمیرات اور اس سے منسلک صنعتوں کو تقویت ملے گی۔ رپورٹ میں زرعی شعبے کو خریف اور ربیع کی فصلوں کے لیے امدادی پیکجوں سے مزید فائدہ اٹھانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مالیاتی خسارے کو مالی سال 22 کے لیے جی ڈی پی کے 6.3 فیصد سے 7.3 فیصد کی حد کے اندر تصور کیا ہے۔

یہ نتیجہ غیر ترجیحی موجودہ اخراجات پر مسلسل جانچ اور ٹیکس اور غیر ٹیکس محصولات دونوں میں توسیع سے حاصل ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں مسلسل تبدیلی پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی سے وصولی کو بھی فروغ دے سکتی ہے‘۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 22 کے لیے 30 ارب اور 32 ارب کے درمیان ترسیلات زر کا تخمینہ لگایا جبکہ برآمدات 26 ارب سے 27 ارب تک اور درآمدات 62 ارب اور 63 ارب کے درمیان ہیں۔
قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) افراط زر 7 اور 9 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جبکہ سال کی دوسری ششماہی میں  افراط زر میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔ رپورٹ نے کے مطابق ’یہ تخمینے کئی خطرات سے مشروط ہیں جس میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں متوقع سے زیادہ اور یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافہ شامل ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی سطح پر اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے سے متعلقہ پیش رفت مہنگائی پر دوسرے دور کے اہم اثرات کا باعث بن سکتے ہیں۔  مالی سال 21 کے دوران پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی، جی ڈی پی کی شرح نمو 3.9 فیصد تک پہنچ گئی۔

مرکزی بینک کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ اقتصادی سرگرمیوں میں یہ توسیع 10 سال کے کم کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کے ساتھ تھی جس نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس میں کہا گیا کہ ایس بی پی کی لیکویڈیٹی سپورٹ مالی سال 21 کے آخر تک جی ڈی پی کے تقریباً 5 فیصد تک پہنچ گئی، جس میں پالیسی ریٹ میں کٹوتیوں کے ساتھ متعدد ٹارگٹڈ اور ٹائم باؤنڈ اقدامات شامل ہیں۔

Related Articles

Back to top button