کاروباری خبریں

آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی، گیس اور ٹیکس کلیکشن کے اعداد و شمار شیئر کیے: شوکت ترین

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ امریکی دورے پر آئے پاکستانی ٹیم کے ارکان اگلے ہفتے تک وہیں مقیم رہیں گے، تاکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ قرض حاصل کرنے کے معاملات کو حل کر سکیں۔

پاکستانی سفارت خانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین نے بتایا کہ فنانس سیکریٹری آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں ہی رہیں گے جب کہ وہ اور گورنر اسٹیٹ بینک نیویارک میں رہیں گے اور وہ مذاکرات میں آن لائن شرکت کریں گے۔

اس سے قبل آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ قرضوں کے استحکام اور ملکی ترقی کے لیے وہ پاکستان کے ساتھ چھٹے مالیاتی پیکج پر کھل کر تعمیری بات چیت کرنے کو تیار ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے جولائی 2019 میں اسلام آباد کے لیے اقتصادی اصلاحات پروگرام کی مد میں 6 ارب ڈالر کے ’ایکسیٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی‘ (ای ایف ای) کے 39 ماہ کے پروگرام کی منظوری دی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران شوکت ترین نے بتایا کہ آئندہ چند روز میں عالمی مالیاتی ادارہ اور پاکستان ایک مشترکہ بیان جاری کریں گے، جس میں قرض حاصل کرنے کی سہولت کے آغاز کا اعلان کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ مشترکہ اعلان کے فوری بعد عالمی مالیاتی ادارہ ایک ارب ڈالر کے فنڈز جاری کرے گا۔

شوکت ترین نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی، گیس اور ٹیکس کلیکشن کے کچھ اعداد و شمار شیئر کیے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی جانب سے شیئر کردہ ڈیٹا کی توثیق کی ہے اور وہ اس کا دوبارہ بھی جائزہ لیں گے جب کہ پاکستان نے انہیں کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے جائزے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ حکومت نے رواں سہ ماہی میں ٹیکس کی مد میں 175 ارب روپے اضافی وصول کیے ہیں اور مذکورہ ڈیٹا کو آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حالیہ دور کے دوران انہوں نے امریکی اور ترک وزیروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر شوکت ترین کے ہمراہ اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کرنٹ خسارے کے حوالے سے بھی بات کی۔

Related Articles

Back to top button