کاروباری خبریں

حکومت کی جانب سے آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان

وزیر خزانہ شوکت ترین نے حکومت کی جانب سے آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی آئے گی، حکومت ضروری اشیاء پر ٹارگیٹڈ سبسڈی دینے جارہی ہے جس سے مہنگائی کی شرح 8 فیصد تک کمی آجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کسان سے لے کر ریٹیلر تک قیمتوں کا تعین کررہے ہیں۔ کسان کو صحیح قیمتیں دینے کیلئے آڑھتی کا کردار ختم کررہے ہیں۔

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کی آمدنی میں اضافہ کیلئے کام کررہی ہے، ہمارے محصولات بڑھ رہے ہیں عوام پر اس کا براہ راست اثر پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ پیداوار میں کمی اور طلب میں اضافہ ہے۔ آئی ایم ایف کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان زیادہ تر اشیا درآمد کرتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی ہورہی ہے۔ کسان اور ریٹیلرز کے مرحلوں پر شرح منافع کو دیکھنا ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر شوکت ترین نے کہا کہ گندم کی ریلیز سے آٹے کی قیمتوں میں کمی آئیگی جبکہ بجلی اور گیس میں پہلے بھی ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے تھے۔

ٹارگٹڈ سبسڈی کیلئے احساس پروگرام کا ڈیٹا استعمال کیا جائیگا اور کوشش کررہے ہیں عالمی مارکیٹ کے نرخ کا عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ پنجاب اور بلوچستان میں صحت کارڈ کا اجرا حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت ایک مکمل پیکج لایا جارہا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھرمیں ہوئی ہے۔ کورونا کی وجہ سے دنیا بھرمیں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ کورونا سے سپلائی چین متاثرہوئی اوراس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ کورونا کے باعث زراعت کا شعبہ بھی متاثرہوا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا نے ترسیلی نظام کو مفلوج کیا ہے۔ کورونا کے باعث زراعت کا شعبہ بھی متاثرہوا ہے۔ ماضی میں زراعت کاشعبہ نظر انداز رہا اور کسان متاثر ہوا۔ کورونا میں پروڈکشن کم اورٹرانسپورٹیشن بھی بند ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے۔ چینی فی ٹن 430ڈالر پرچلی گئی۔ پیاز،آلو،ٹماٹرخود استعمال کررہے ہیں اوربرآمد بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف میں جانےسےروپے کی قدرمیں کمی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو مجبوراً آئی ایم ایف پروگرام میں جانا پڑا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پالیسی ریٹ 13.25 فیصد اور روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے جبکہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اب قرضے 39.9 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا قرضے 2018 میں 25.29 تھے، 2018 میں قرض بلحاظ جی ڈی پی 74 فیصد پر تھا جبکہ قرض بلحاظ جی ڈی 2020 میں 85.7 تھا اور 2021 میں 81.1 ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ معیشت جب بڑھتی ہے تو قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کمیشن میں بورڈ بن رہا ہے۔ نقصان میں جانے والے 10 اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ وزارتوں کے پاس صلاحیت نہیں بورڈ ان اداروں کو منافع بخش بنائے گا۔

Related Articles

Back to top button