کاروباری خبریں

پاکستان اور روس گیس پائپ لائن منصوبے کا معاہدہ کرنے پر متفق

پاکستان اور روس نے کراچی تا قصور (لاہور) گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے شیئرہولڈرز ایگریمنٹ (ایس ایچ اے) اور سہولت کاری کے معاہدے (ایف اے) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

2 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے آئندہ ماہ بیک وقت اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

11 سو کلومیٹر طویل پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبے پر 3 روزہ تکنیکی سیشن جمعرات کو اختتام پذیر ہوا جس کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ منصوبے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

فریقین نے فیصلہ کیا ہے کہ تکنیکی جائزوں اور سروے میں تیزی لائی جائے گی، ساتھ ہی دونوں نے منصوبہ بندی کے مرحلے کے کاموں بشمول فیلڈ سروے، جانچ پڑتال اور جائزوں کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

مشترکہ بیان کے مطابق فریقین نے کراچی سے قصور آر ایل این جی منتقل کرنے، ڈیزائن پیرامیٹرز، تکنیکی خصوصیات پر بھی غور کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پائپ لائن کو سندھ میں زیر زمین گیس ذخیرہ کرنے والے مجوزہ منصوبوں اور ملتان میں ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن کراسنگ پوائنٹ سے جوڑنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق یہ جولائی میں ہونے والے ایک اجلاس میں معاہدے کی شرائط کے معاہدے کے بعد کی پیش رفت ہے، منصوبہ پاکستان اور روس کے باہمی تعلقات کی وسعت کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینے کے لیے اثر انگیز کے طور پر کام کرے گا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے اصولی طور پر اس منصوبے کے شیئر ہولڈر معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ روسی اور پاکستانی فریقین منصوبے کی کمپنی کو پاکستان لاسکیں۔

اس بات پر پہلے ہی اتفاق ہوچکا ہے کہ زیادہ تر شیئر ہولڈنگ پاکستان کے پاس ہوگی، دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ یہ منصوبہ پاکستان اور روس کے مابین تعمیری اور بامعنی تعاون کی بنیاد تشکیل دے گا اور اس بڑھتے ہوئے تعلقات کو فروغ دے گا۔

15 جولائی کو طے ہونے والی ہیڈ آف ٹرمز کے تحت کراچی کے علاقے پورٹ قاسم سے لاہور تک تقریباً 1100 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن ڈالی جائے گی جس پر 2.5 سے 3 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ 2023 میں مکمل ہوگا۔

Related Articles

Back to top button