کاروباری خبریں

بٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، وجوہات سامنے آگئیں

کرپٹو کرنسی ‘بٹ کوائن’ کی قیمت میں تین ماہ کے دوران پہلی مرتبہ 2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بٹ کوائن کی قدر2 فیصد اضافے کے بعد 50 ہزار ڈالر 249 سے زیادہ ہوگئی، معاشی ماہرین نے ڈیجیٹل کرنسی کی قدر میں بڑھوتی کی چند وجوہات بھی بتائی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے امریکی کمپنی ٹیسلا کے بٹ کوائن کے ذریعے خرید وفروخت نہ کرنے کے فیصلے اور بیجنگ حکام کی چینی کرپٹو کرنسی پر پابندی کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ بعد ازاں ٹیسلا اور دیگر سرمایہ داروں نے مذکورہ کرپٹو کرنسی کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کی مالیت میں 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور مستقبل میں امکان ہے کہ اس کی قدر ایک لاکھ امریکی ڈالر تک بھی جاسکتی ہے۔

 خیال رہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں حیران کن حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا، اس سے قبل اس کی قمیت 29 ڈالر سے بھی کم تھی۔ لیکن اب یہ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ رواں سال اپریل میں بٹ کوائن کی مالیت ریکارڈ اضافے کے بعد 65 ہزار ڈالر کو پہنچ گئی تھی۔ جبکہ حالیہ اضافے کے باوجود اس کی قیمت 50 ہزار کے قریب ہے۔

ادھر امریکی کمپنی بن سائنور انویسٹمنٹ کے سربراہ رک بن سائنور نے بتایا کہ ان کی توقعات کے مطابق بٹ کوائن کی مالیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈیجیٹل کرنسی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے بٹ کوائن یا دیگر کرپٹو کرنسی کا 70 فیصد چین سپلائی کرتا ہے، چینی ڈیجیٹل کرنسی پر پابندی سے بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔

Related Articles

Back to top button