کاروباری خبریں

بٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر بڑی کمی

گزشتہ ہفتے ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کی ٹوئٹس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ سامنے آیا تھا لیکن چین کی جانب سے بٹ کوائن کے حوالے سے کریک ڈاؤن میں توسیع کی وجہ سے اس کی قیمت میں بھی پھر کمی آگئی۔

برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں پیر کے روز بٹ کوائن کی قیمت میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔

بٹ کوائن کی قیمت اس وقت 12 روز کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور یہ اب 32،288 ڈالرز میں فروخت ہورہا ہے۔

اگر بٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی برقرار رہتی ہے تو یہ رواں ماہ میں کرپٹو کرنسی کی قدر میں سب سے زیادہ کمی ہوگی۔

18 جون کو چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں حکام نے کریپٹوکرنسی مائننگ کے پروجیکٹس کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ ماہ چین کی کابینہ، ریاستی کونسل نے مالی خطرات پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت بٹ کوائن کی مائننگ اور تجارت پر پابندی عائد کرنے کا عزم کیا تھا۔

لندن میں مقیم کرپٹو فرم بی سی بی گروپ کے بین سیبلی نے کہا کہ چینی مائنرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کوائن کا ذخیرہ کم کررہے ہیں اور ہمیں نچلی سطح پر لے کرجارہے ہیں’۔

خیال رہے کہ چین میں بٹ کوائن کی پیداوار، بٹ کوائن کی عالمی پیداوار کے نصف حصے سے زیادہ ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بٹ کوائن مائننگ کے لحاظ سے سیچوان چین کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔

برسات کے موسم میں کچھ مائنرز اس کی پیداوار کو سیچوانمنتقل کرتے ہیں تاکہ پن بجلی کے وسائل سے مستفید ہوسکیں۔

وہ کمپنیاں جو بٹ کوائن کی مائننگ کرتی ہیں عام طور پر کرپٹوکرنسی کی بڑی فہرست کی حامل ہوتی ہیں اور ان کا کوئی بھی قدم قیمتوں میں بڑی کمی کا باعث بنتا ہے۔

یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ گزشتہ 6 روز میں بٹ کوائن کی قیمت پانچویں بار کم ہوئی ہے اور اپریل میں 65 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اس کی قیمت نصف ہوگئی ہے۔

اس کے باوجود رواں برس بٹ کوائن کی قیمت میں مجموعی طور پر 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب بٹ کوائن کی حریف دوسری بڑی کرپٹوکرنسی ایتھر کی قدر می 12 فیصد کمی آئی ہے۔

خیال رہے کہ بٹ کوائن کی قیمتوں میں اس طرح کا اتار چڑھاؤ نیا نہیں، 2017 میں بھی ایسا دیکھنے میں آیا تھا۔

2017 میں اس کرنسی کی قدر میں 900 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا اور وہ 20 ہزار ڈالرز کے قریب پہنچ گئی تھی، مگر اس موقع پر مالیاتی ماہرین نے انتباہ کیا تھا کہ یہ قیمت بہت تیزی سے نیچے جاسکتی ہے۔

پھر ایسا ہوا بھی اور فروری 2018 میں قیمت 7 ہزار ڈالرز سے بھی نیچے چلی گئی تھی۔

Related Articles

Back to top button