کاروباری خبریں

کرپٹو کرنسی کی قیمت میں مسلسل کمی کی اصل وجہ سامنے آگئی

کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں گزشتہ روز 30 فیصد کمی دیکھی گئی، بٹ کوائن کی قیمت گذشتہ ماہ ریکارڈ 63 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

بٹ کوائن کی قیمت میں کمی چین کی جانب سے کرپٹو کرنسیز پر پابندی اور ایلون مسک کی جانب سے اس عندیے کے بعد ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا اپنی بٹ کوائنز کی بڑی تعداد بیچنے کا ادارہ رکھتی ہے۔

33ہزار ڈالر سے زائد قیمت پر واپس پہنچنے سے پہلے ورچوئل کرنسی کی قیمت 30 ہزار ڈالر تک گر گئی جو گذشتہ ماہ پہنچنے والی اس کی ریکارڈ قیمت کے نصف سے بھی کم ہے۔ یہ ابھی بھی رواں سال کے آغاز کی قیمت کی سطح سے بلند ہے۔

چین میں منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے سال2019 سے کرپٹو کرنسیز کی ٹریڈنگ پر پابندی عائد ہے کیونکہ قائدین لوگوں کو بیرون ملک نقد رقم منتقل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، اس شعبے کی عالمی تجارت میں ملک کا حصہ 90 فیصد تھا۔

بدھ کو چینی حکام کا کہنا تھا کہ لین دین میں کرپٹو کرنسیز کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سرمایہ کاروں کو اس میں ٹریڈنگ کی قیاس آرائیوں کے حوالے سے انتباہ کیا گیا ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت میں بہت اضافہ دیکھا گیا جس کی ایک وجہ ایلون مسک اور ٹیسلا بھی تھے لیکن گذشتہ ہفتے ٹیسلا نے کرپٹو کرنسی سے ماحول پر پڑنے والے مضر اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں کی بٹ کوائن سے الیکٹرک گاڑیوں کی ادائیگی پر بریک لگا دی۔

پھر ایلون مسک نے اس بات کی وضاحت سے قبل کہ کمپنی نے کوئی بٹ کوائن نہیں بیچا ہے، تجویز دی کہ ٹیسلا اپنے پاس موجود بٹ کوائنز کی بڑی تعداد کو فروخت کرنے کا ارادہ کر رہی ہے۔

بٹ کوائن کے لیے بدھ کا سارا دن اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا۔ اس کی قیمت 45,600 ڈالر سے گر کر 40 ہزار ڈالر تک آ گئی۔ اس کے بعد 30ہزار ڈالر تک گرنے سے قبل یہ پھر اوپر آئی اور اس کے بعد پھر 33 ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ خیال رہے کہ بٹ کوائن کی قیمت گذشتہ ماہ ریکارڈ 63 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

Related Articles

Back to top button