وزیر خزانہ کا آئی ایم ایف معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ

وزیر خزانہ کا آئی ایم ایف معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ

وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف معاہدے پر نظر ثانی کا اشارہ دے دیا اور کہا آئی ایم ایف نے ہمارے ساتھ زیادتیاں کی ہیں، آئی ایم ایف سے ٹیرف نہ بڑھانے کیلئے بات کرنی ہوگی۔

فیض اللہ کموکا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا ، کمیٹی نے اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین کی شرکت کاخیرمقدم کیا۔

اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف معاہدے پر نظر ثانی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا آئی ایم ایف نے ہمارے ساتھ زیادتیاں کی ہیں ، بات کریں گے، آئی ایم ایف سےٹیرف نہ بڑھانے کیلئے بات کرنی ہوگی ، ٹیرف بڑھانے سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ شرح سود کو 13.25 فیصد پر رکھنا غلطی تھی، جن اداروں کو حکومت نہیں چلا سکتی ان کی نجکاری کی جائے، پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتا ہوں ، میں نے ہمیشہ پارلیمان کو فوقیت دی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کا پہیہ چلے گا تو شرح نمو بہتر ہوگی، جو ٹیکس نہیں دیتا اس کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، بجلی کےنرخ بڑھا کرمزیدکرپشن کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر خزانہ رہا ہوں ،10 سال میں مجھے ٹیکس کیلئے ہراساں کیاگیا ، محصولات بڑھانے کیلئےکسی کی دم پرپاؤں نہیں رکھیں گے، پاکستان میں معیشت سےمتعلق منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ، 20 سے30 سال پائیدار معاشی ترقی کیلئے مربوط نظام لایا جائے۔

شوکت ترین نے کہا پاکستان میں 3 سال بھی معیشت پائیدار نہیں رہتی، زراعت، صنعت کےذریعےشرح نمو میں بہتری لائی جاسکتی ہے،ہاؤسنگ پر پاکستان اپنے جی ڈی پی کا0.25 فیصد خرچ کرتا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 70سال سےمحروم عوام کے طرز معاشرت کو بہتر بنانا ہوگا ، پاکستان کی 85 فیصد آمدن صرف 9 شہروں میں خرچ ہوتی ہے، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب والوں کاکیا قصورہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں