فروری 2021 تک قرضوں میں کتنے فیصد اضافہ ہوا؟ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ جاری

فروری 2021 تک قرضوں میں کتنے فیصد اضافہ ہوا؟ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ جاری

مقامی قرضوں میں فروری 2020 سے فروری 2021 تک 11.7 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی قرضہ 24 ہزار 780 ارب روپے ہو گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں فروری 2020 سے فروری 2021 تک 11.7 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی قرضہ 24 ہزار 780 ارب روپے ہو گیا۔

ایک سال میں محصولات کی وصولی میں اضافے کے باوجود مقامی قرض میں فروری 2020 میں 22 ہزار 784 ارب روپے میں 11.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ زیادہ اخراجات اور مالی خسارے میں اضافہ کی عکاسی کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مقامی قرض میں 2 ہزار 596 ارب روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے 8 ماہ (جون تا فروری) کے دوران گھریلو قرضے میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا جو ایک ہزار 498 ارب روپے بنتا ہے۔

جون 2020 میں مقامی قرض 23 ہزار 282 ارب روپے تھا۔

تاہم غیر ملکی قرضوں سمیت وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں سے اس اعداد و شمار میں کمی رہی کیونکہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران 9 اعشاریہ 5 فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا۔

غیر ملکی قرض سمیت مجموعی قرض فروری 2020 میں 33 ہزار 417 ارب روپے تھا جو فروری 2021 میں 36 ہزار 417 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

رواں مالی سال کے دوران مجموعی قرضوں میں نمو نمایاں طور پر کم تھی کیونکہ اس میں مالی سال 2021 کے 8 ماہ کے دوران ایک ہزار 505 ارب روپے اضافہ ہوا۔

رواں مالی کے دوران غیر ملکی قرض (روپے میں) کسی خاص سطح تک نہیں بڑھ سکا کیوں کہ یہ مالی سال 2012 میں 11 ہزار 832 ارب روپے تک پہنچا تھا جو مالی سال 2020 کے فروری میں 11 ہزار 232 ارب روپے تھا یہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران 600 ارب روپے کا اضافہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مالی سال 2021 کے 8 ماہ کے غیر ملکی قرضہ 8 ارب روپے اضافے سے 11 ہزار 832 ارب روپے رہا جبکہ اس کے مقابلے میں مالی سال 2020 کے 8 ماہ کے دوران میں 11 ہزار 824 ارب روپے تھا۔

غیر ملکی واجبات کا ڈیٹا اسٹیٹ بینک نے اپ ڈیٹ نہیں کیا جس میں مجموعی قرض اور واجبات کی زیادہ مقدار ظاہر ہوسکتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان نے بین الاقوامی منڈی میں یورو بونڈ کی مد میں ڈھائی ارب ڈالر قرض لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں