نیپرا ایکٹ میں ترمیمی آرڈیننس جاری، وفاقی حکومت کو بجلی مزید مہنگی کرنے کا اختیار مل گئی

نیپرا ایکٹ میں ترمیمی آرڈیننس جاری، وفاقی حکومت کو بجلی مزید مہنگی کرنے کا اختیار مل گئی

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ایکٹ میں ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت کو اضافی سرچارج اور بجلی مزید مہنگی کرنے کا اختیار مل گیا۔

آرڈیننس کے مطابق حکومت بجلی کے بلوں پر 10 فی صد سرچارج وصول کرسکے گی، نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے آرڈیننس کا اطلاق جلد ہوگا، حکومت کو ایک روپے 40 پیسےفی یونٹ تک سر چارج لگانےکا اختیار مل گیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت حکومت کو آئندہ دو سال میں بجلی ساڑھے 5 روپےتک مہنگا کرنے کا اختیار ہوگا،عوام پر سرچارج کی مد میں 150 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
آرڈیننس کے مطابق بجلی سسٹم کو سالانہ 1400 ارب روپے حاصل کرنا ہیں،حکومت نے سرکلر ڈیٹ کے حل کیلئے سرچارج لگانا ضروری قرار دیا ہے۔

ایکٹ میں ترمیم کے بعد نیپرا کو بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے خود مختاری مل گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر صدر عارف علوی نے دستخط کیے تھے جس کے بعد ترمیمی آرڈیننس میں 140 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے۔

آرڈیننس کے ذریعے فلم انڈسٹری کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے، فریش گریجویٹس کو حاصل ٹیکس چھوٹ بھی واپس لے لی گئی، کاروباری مقامات پر این ٹی این کارڈ آویزاں کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، دکان پر ٹیکس نمبر آویزاں نہ کرنے پر پانچ ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

آرڈیننس میں 62 اداروں کو کریڈٹ ٹیکس کی سہولت دی گئی ہے، رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ سے متعلق ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی، آٹو ڈس ایبل سرنجز پر بھی ٹیکس چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں