حکومت کا انکم ٹیکس میں رد و بدل

حکومت کا انکم ٹیکس میں رد و بدل

وفاقی حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط پر انکم ٹیکس چھوٹ کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے 140 ارب روپے انکم ٹیکس چھوٹ کے لیے صدارتی آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے آرڈیننس لانے کی منظوری لی.

سمری میں کہا گیا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث بل پارلیمنٹ سے منظور نہیں کرایا گیا۔

قبل ازیں محصولات اکٹھا کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز کو براہ راست صارفین کے بینک اکاونٹس میں مننتقل کرنے کے لیے کا نیا خود کار نظام متعارف کرایا تھا۔

ایف بی آر کی جان سے جاری اعلامیے کے  مطابق ٹیکس گزاروں کو ان کے سیلز اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی ان کے بینک اکاوَنٹس میں ہوگی۔

ممبر آئی آر آپریشنز نے انکم ٹیکس ریفنڈز کلیمز کی ادائیگی کیلئے خودکار نظام کا افتتاح کیا۔ نئے نظام کے اجراسے ٹیکس نظام میں انسانی مداخلت مزید کم ہو جائے گی۔

ایف بی آر کے مطابق کاروباری کمیونٹی کو بروقت ٹیکس ریفنڈ ادائیگی سے ریلیف ملے گی۔ ایف بی آر خو د کار نظام کو تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قائم کرنے کیلئے پر عزم ہے۔

ایف بی آر اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ٹیکس گزار بینک اکاؤ نٹس کے ساتھ ساتھ بینک کا آئی بی اے این نمبر بھی فراہم کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں