پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران بڑھتے ہوئےآن لائن کاروبار میں کمی ریکارڈ

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران بڑھتے ہوئےآن لائن کاروبار میں کمی ریکارڈ

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران بڑھتے ہوئےآن لائن کاروبار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کی اہم وجہ مارکیٹوں کا کھلنا اورمعمولات زندگی بحال ہونا ہے۔

کورونا وبا اورلاک ڈاؤن کے بعد کراچی میں آن لائن آرڈرکی بکنگ اورہوم ڈلیوری کےکاروبارمیں 60 فیصد سےزیادہ اضافہ ہوا ہے۔

موبائل بینک یوزرز50 لاکھ اورانٹرنیٹ بینکنگ سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 30 لاکھ تک جاپہنچی ہے۔

ایک سال میں آن لائن ادائیگیوں کےتناسب میں 1 فیصد جبکہ گزشتہ 5 سالوں میں اسکی شرح 15 فیصد بڑھ گئی تھی ۔

دراز ڈاٹ کام کے مینجنگ ڈائریکٹر نے ہم نیوز کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد آن لائن کاروبار میں کافی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانےپینے کی اشیا، الیکٹرونکس مصنوعات، گارمنٹس، میک اپ کٹس اورآٹوایسرسریزمیں شہریوں کیساتھ ہونے والے فراڈ نے بھی آن لائن کاروبارکو متاثرکیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کےمطابق رئیل ٹائم آن لائن برانچزکےذریعے ادائیگیوں کا تناسب سب سےزیادہ رہا۔پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق 14 ہزار800 ارب کی ادائیگیوں میں 84 فیصد ادائیگیاں آن لائن کی گئی۔

کورونا وائرس کے دوران پاکستان میں موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور ڈیجیٹل گیجٹس وغیرہ کی آن لائن خریداری میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

پاکستان میں آن لائن کاروبار بہت زیادہ نہیں ہے لیکن اس کا پچپن فی صد حصہ پنجاب میں، چھتیس فی صد سندھ میں اور صرف پانچ فی صد حصہ خیبر پختونخوا میں ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بلوچستان میں اس کا حصہ دو دو فی صد ہے۔

کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران تازہ سبزیوں اور پھلوں کی آن لائن خریداری میں نو گنا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان کی آن لائن خریداری میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں