عالمی بینک اورپاکستان کے درمیان 2 معاہدے

پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان سرمایہ کاری سے متعلق ایک ارب 15 کروڑ ڈالر کے 2 معاہدے طے پاگئے۔

دونوں معاہدے خیبر پختونخوا میں ہائیڈرو پاور اور قابل تجدید توانائی کی ترقی سے متعلق ہیں۔ ورلڈ بینک کی جانب سے نرم شرائط پر ہائیڈرو پاور اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو مکمل کیا جائیگا۔

جاری اعلامیہ کے مطابق توانائی کے دونوں منصوبے خیبر پختونخوا میں لگائے جارہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے: آئندہ 2 سال میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان ہے: عالمی بینک …

جاری اعلامیہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہائیڈرو پاور اور قابل تجدید توانائی منصوبے پر 45 کروڑ ڈالر لاگت آئیگی۔ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے پہلے فیز پر لاگت کا تخمینہ 70کروڑ ڈالر ہے۔

معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔ حکومت ملک کی سماجی واقتصادی ترقی کیلئے پرعزم ہے۔

دوسری جانب مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ڈالر کو سستا رکھ کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاشی مشکلات وراثت میں ملی ہیں تاہم اب معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 15 کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کا شکار، عالمی بینک نے رپورٹ جاری کر دی …

انہوں ںے کہا کہ ہم عالمی مالیاتی ادارے کے پاس مجبوری کے تحت گئے اور اس بات سے بھی انکار نہیں کہ معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے گئے۔ ہم نے 5 ہزار ارب روپے قرض کی صورت میں واپس کرنے تھے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں ڈالر کو جان بوجھ کر سستا رکھا گیا جس کی وجہ سے ہماری معیشت کو نقصان ہوا۔ ڈالر سستا ہوا تو ہمارے ملک میں انگور سے لے کر ٹوتھ پیسٹ تک باہر سے منگوانا شروع ہوئے۔ ماضی میں ڈالر سستا کر کے اس کا فائدہ دوسرے ممالک کو پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سرمایہ کاری سے لے کر صنعتی زون تک مختلف مواقعوں میں نجی شعبے کو ترجیح دی اور حکومتی اخراجات کو محدود کیا گیا جبکہ ہم نے مختلف اشیا پر ٹیکس کو بھی ختم کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں