مویشی منڈی میں جانوروں کی خریداری نہ ہوئی تو ملکی معیشت کو دھچکا پہنچے گا: بیوپاری

رات ایک بجے مویشی منڈی کے دروازے اچانک بند کر دیے گئے، جس کی وجہ سے علاقے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، شہریوں اور انتظامیہ کے درمیان منڈی کے اندر جانے کے لیے دیر تک تلخ کلامی ہوتی رہی۔

حکومت نے گزشتہ روز کراچی سپر ہائی وے مویشی منڈی شام 7 بجے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، تاہم گزشتہ رات ایک بجے اچانک منڈی کر دی گئی جس سے علاقے میں شدید ٹریفک جام ہو گیا اور مویشی خریدنے کے لیے آنے والے شہری شدید پریشانی کا شکار ہو گئے۔

بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی مویشی منڈی میں جانوروں کی خریداری نہ ہوئی تو ملکی معیشت کو دھچکا پہنچے گا، دو چار روز ہی باقی رہ گئے ہیں، 24 گھنٹے بھی خریداری کے لیے کم ہیں۔

منڈی کے ترجمان نے نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو پریشانی میں ڈالنے کی بجائے وقت میں نرمی کی جائے، شہریوں کی اکثریت آخری دنوں میں قربانی کے جانوروں کی خریداری کرتی ہے، صبح کے اوقات میں لوگ اپنے روزگار پر جاتے ہیں اور رات میں جانور پسند کرتے ہیں۔

دوسری طرف مویشی منڈی انتظامیہ نے حکومتی اعلان پر من وعن عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ آج شام 7 بجے مویشی منڈی میں خریداری بند کر دی جائے گی، حکومتی اعلانات کی روشنی میں منڈی کے دروازے شام سات شہریوں کے لیے بند کر دیے جائیں گے، بیوپاری حضرات کے مویشی فروخت کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے نمائندے بھی شام سات بجے کے بعد منڈی میں تشریف نہ لائیں، مویشی منڈی انتظامیہ حکومتی فیصلوں پر ہر صورت عمل کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں