ملک کے کئی شہروں میں بیشتر پیٹرول پمپس پر پیٹرول نایاب، شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا

ملک کے کئی شہروں میں بیشتر پیٹرول پمپس پر پیٹرول نایاب ہوگیا ہے جس سے شہریوں کےساتھ ساتھ ٹرانسپورٹرزکو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بن گئی ہے، اندرون ملک سے سپلائی نہ آنے کی وجہ سے کراچی، لاہور، کوئٹہ اور دیگر شہروں کے بیشتر پیٹول پمپس بند ہوگئے اور جن کے پاس پیٹرول دستیاب ہے وہ دگنی قیمت وصول کررہے ہیں۔

کراچی میں بھی گزشتہ تین روز سے پیٹرول کی قلت برقرار ہے اور شہر کے بیشتر پیٹرول پیمپس پر پیٹرول دستیاب نہیں جب کہ پمپس پر شہریوں کو مہنگا ہائی آکٹین ڈلوانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

اسی طرح اندورن ملک سے بلوچستان کو بھی پیٹرول کی فراہمی نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سےکوئٹہ کے بیشتر پیٹرول پمپس پر پیٹرول دستیاب نہیں ہے، تین چار پمپس ایسے ہیں جہاں محدود مقدار میں پیٹرول دستیاب ہے جس کے حصول کیلئے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہتی ہیں۔

جن پیٹرول پمپس پر پیٹرول دستیاب ہے انہوں نے فی لیٹر قیمت میں بھی اضافہ کردیا ہے۔

صدرآل بلوچستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سید قیام الدین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پیٹرول کی مصنوعی قلت کی ذمہ دارنجی پیٹرولیم کمپنیاں ہیں، یکم جون سے پی ایس اوکےعلاوہ دیگرکمپنیوں کی تیل کی سپلائی بند ہے، اوگرا، وزارت پیٹرولیم اورحکومت بلوچستان پیٹرول کی قلت کانوٹس لے، اگر پیٹرول نہیں ملا تو پی ایس او کے پمپس بھی بند کر دیں گے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں بھی پیٹرول کی قلت کی شکایات ہیں جہاں پشاور شہر سمیت بنوں میں بھی پیٹرول نایاب ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں پیٹرول کی قلت پر اوگرا نے تین آئل کمپنیز کو مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کو عدم فراہمی پر شو کاز نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں