کورونا وائرس: آئی ایم ایف نے قرضوں سے متعلق کیا بڑا فیصلہ کر لیا؟ جانیے تفصیلات

عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیا نے کہا ہے کہ چند قرض پائیدار نہیں ہیں اور ان کو ازسر نو مرتب کرنے یا معاف کرنے کی ضرورت ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق کرسٹالینا جیورجیا نے ایک انٹرویو میں حکومتوں پر غیر محفوظ ترین طبی عملے کی حفاظت کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیسے خرچ کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چند معاملات میں یہ ممکن ہے کہ قرض پائیدار نہیں اس لیے چند اقدامات کرنے ہوں گے چاہے اسے از سر نومنظم یا ترتیب دیا جائے یا بعض پہلوں سے اس قرض کو معاف کردیا جائے۔

ان کا ماننا تھا کہ بحران میں مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے جبکہ جی20 ممالک قرضوں میں کچھ نرمی کاوعدہ کرچکے ہیں۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے قرضوں کی از سر نو ترتیب کی ضرورت کو تسلیم کیا اور کہا کہ پہلی ترجیح بیماری سے نجات ہے جو پہلے ہی ہزاروں افراد کی جان لے چکی ہے اورپوری دنیا میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم ممالک سے صرف ایک بات کر رہے ہیں کہ برائے مہربانی اپنے ڈاکٹروں اور نرسوں پر زیادہ سے زیادہ پیسہ خرچ کریں اور مہربانی کرکے غیر محفوظ ترین طبقے کو بچانے کے لیے پیسہ استعمال کریں۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا تھا کہ 100 سے زیادہ ممالک نے وبا کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے اور 50 سے زائد نے فوری طور پر 18 ارب ڈالر کے لگ بھگ منظور کرنے کی درخواست کی ہے۔
دوران گفتگو کرسٹالینا جیورجیا کو عالمی معیشت کو درپیش بحران کے حد پر جائزہ پیش کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کچھ جواب نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عظیم کساد بازاری کے بعد بدترین بحران ہے لیکن یہ اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ صحت کے بحران اور معاشی ضرب دونوں پر مشتمل ہے اور یہ حقیقی معنوں میں عالمی مسئلہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں