کورونا نے چھوڑ دیئے معیشت پر منفی اثرات، کاروباری افراد کیلئے بُری خبر

مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث ٹیکس وصولیوں کا ہدف پورا نہیں ہو پائے گا اور مالی خسارے میں بھی اضافہ ہوگا، آئندہ بجٹ میں اہم مقصد معیشت اور عوام کو وبا کے منفی اثرات سے بچانا ہے۔

مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال مالی خسارےمیں اضافہ ہوگا اور مالی خسارہ9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، مالی خسارے میں اضافے کی وجہ معیشت پر کوروناکےمنفی اثرات ہیں۔

مشیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پہلے ہمیں مالی خسارہ 7.6 فیصد رہنے کی امید تھی، اب مالی خسارہ 8سےبڑھ کر9فیصدتک ہوسکتاہے جبکہ کوروناکےباعث ٹیکس وصولیوں کاہدف پورا نہ ہوپائےگا۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کےہدف میں کمی کی گئی ہے، رواں سال ٹیکس وصولیوں کا ہدف3.9ٹریلین روپے رہے گا، ٹیکس وصولیوں کاہدف مقررہ ہدف سے19 فیصد کم ہے۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈنے1ارب 38کروڑ ڈالر ریپڈفنانسنگ کےتحت دیے، یہ رقم کورونا سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کیلئے خرچ ہوگی، رواں مالی سال ملکی معیشت ایک سے ڈیڑھ فیصد تک سکڑنے کا خدشہ ہے۔

مشیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان نے رواں مالی سال کیلئے 2.4فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا تھا، کورونا کے باعث، ٹیکس وصولیوں، برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ پاکستان نےجی 20کو قرضوں کی ادائیگی مؤخر کرنےکی درخواست دی، درخواست کی منظوری سے پاکستان کو 1.8ارب ڈالر کا ریلیف ملے گا، عالمی بینک اوراے ڈی بی پاکستان کو اسپیشل پیکج دے رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں اہم مقصد معیشت،عوام کو وبا کے منفی اثرات سے بچانا ہے، برآمدی صنعتوں میں کام جاری رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہےہیں، کوروناکےاثرات کب ختم ہوں گے پتہ نہیں۔

مشیرخزانہ کا کہنا تھا کہ مالی خسارہ آئندہ بجٹ میں کم کریں گے ، مالی خسارے میں کمی کیلئے اخراجات میں کمی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں