پاکستان کی انٹرنیشنل بزنس سے محرومی مگر کیوں؟ موڈیز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے پاکستان کے لیے بڑے خطرے کی گھنٹی بجا دی

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت پاکستان جون تک اینٹی منی لانڈرنگ ( اے ایم ایل ) اور کومبیٹنگ ٹیرارسٹ فنانسنگ ( سی ٹی ایف) ایکشن پلان کے نفاذ میں ناکام رہتی ہے تو پاکستانی بینکوں کو انٹرنیشنل بزنس سے محرومی کا سامنا کرنا ہوسکتا ہے کیوں کہ پھر انھیں گلوبل ٹرانزیکشن کے لیے زائد قیمت ادا کرنی ہوگی۔

موڈیز نے گذشتہ روز جاری کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اعلان پاکستانی بینکوں کے لیے کریڈٹ نگیٹیو ہے کیوں کہ اس میں بینکوں کی فارن کرنسی کلیئرنگ سروسز کے ساتھ ان کے فارن آپریشنز سے متعلق پابندیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف نے خبردار کیا تھا کہ اگر پاکستانی حکومت، ریگولیٹری باڈی اور مالیاتی نظام کے دیگر اسٹیک ہولڈرز جون 2020 تک ایکشن پلان کی تعمیل میں ناکام رہتے ہیں تو وہ اپنے رکن ممالک سے کہے گا کہ وہ پاکستان سے بزنس ٹرانزیکشن کرتے ہوئے محتاط رہیں۔

واضح رہے کہ ماہ رواں کے اوائل میں ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 کے ایکشن پلان برائے اے ایم ایل اور سی ٹی ایف کی تاریخ تکمیل میں جون 2020 تک توسیع کردی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں