ریلیف کے نام پر تکلیف، حکومتی پیکج کے تحت ہر شہری کو ماہانہ صرف 9.5روپے کا ریلیف

ریلیف پیکج۔۔۔ یا۔۔۔تکلیف پیکج۔۔۔حکومت نے مہنگائی کے ہاتھوں جاں بلب عوام کے زخموں پر نمک پاشی کر دی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی کم نہیں کر سکتی تو نا ہونے کے برابر سبسڈی کا تکلف کر کے تکلیف میں اضافہ بھی نہ کرے۔

حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز کے لیے چھ سو ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان نا جانے کیا سوچ کر کیا؟نا آبادی کے تناسب کا خیال رکھا نہ ہی یوٹیلیٹی سٹورز کی کمی کا۔

ملک بھر میں بائیس کروڑ عوام کیلئے صرف چار ہزار یوٹیلیٹی سٹورز موجود ہیں۔ چھے سو ارب روپے کے ریلیف کو اگر بائیس کروڑ عوام پر تقسیم کیا جائے تو جواب حاصل ہو گا ساڑھے نو روپے یعنی ہر شہری کو ملے گا ماہ وارساڑھے نو روپے کا “بڑا” ریلیف۔۔۔

عوامی وزیر اعظم نے مہنگائی کے خلاف نوٹس لیا تو یوں لگا کہ غریب کی زندگی میں بہار بس آئی ہی آئی مگر ہوا وہی کہ جو ہے عوامی نمائندوں کے وعدوں ،دلاسوں کا ازل سے دستور ۔

اعداد وشمار کے اس گورکھ دھندے میں دیکھنا یہ ہے کہ غریب عوام کی دادرسی آخر کیسے ممکن ہو گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں