سرکاری ملازمین کے لیے شاندار خبر : سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں شاندار اضافہ

وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں امتیازی سلوک ختم کرنے کیلئے نظرثانی شدہ پیکیج کے حوالے سے سفارشات مکمل کر کے وزارت خزانہ کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

امکان ہے کہ وفاقی سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ اٹارنی جنر ل آف پاکستان کے ہمراہ یہ سفارشات آج سپریم کورٹ میں پیش کریں گے ۔  وزیر اعظم کے مشیر برائے سول سروس و ادارہ جاتی اصلاحات کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عشرت حسین، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت خزانہ کے ریگولیشن ونگ نے یہ تجاویز تیار کی ہیں جن پر منگل کو کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم کو بریفنگ بھی دی گئی، وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں اس پیکیج میں بدھ کو ترامیم کی گئیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں امتیازی سلوک ختم کرنے کی ہدایات کی روشنی میں تیار کئے گئے نظرثانی شدہ پیکیج پر سپریم کورٹ کی حتمی رائے آج جمعرات کو سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم سے حتمی منظوری لی جائے گی، امکان ہے کہ رواں ہفتے کے دوران ہی وزیر اعظم اس پیکیج کی منظوری دیدیں گے ۔

بتایا گیا ہے کہ ایسی وفاقی وزارتیں اور ڈویژنز جن میں تنخواہوں کے سرکاری سکیل رائج ہیں کے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 100فیصد اضافہ کیا جائے گا ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے ملازمین کی پروموشن کیخلاف ایف بی آر کی اپیل پر متعلقہ افسر کو آئندہ سماعت پر تمام تفصیلات پیش کرنے کاحکم دیدیا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وکیل صاحبہ!متعلقہ آفیسر کو ساتھ لے کرآئیں ،متعلقہ افسربتائے ملازمین کی پروموشن غیرقانونی دی توکیانتائج ہونگے ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں ملازمین کی پروموشن کیخلاف ایف بی آر کی اپیل پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،فروغ نسیم کی عدم موجودگی میں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ محمود شیخ عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فروغ نسیم صاحب کو کہاتھامتبادل وکیل کریں،وکیل محمود شیخ نے کہاکہ فروغ نسیم کو پیغام بھجوایا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں