وفاقی وزرات خزانہ نے مرکز اور صوبوں کے اکاؤنٹ سرپلس ہونے کی بڑی وجہ بتادی، اندرونی کہانی سامنے آ گئی

وفاقی وزرات خزانہ کے مطابق ترقیاتی فنڈز کم خرچ ہونے سے مرکز اور صوبوں کے اکاؤنٹ سرپلس میں گئے۔

وزارت خزانہ کا اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں صوبوں نے مجموعی طورپر 202 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کم خرچ کیے جس کے باعث صوبوں اور مرکز کے اکاؤنٹ سرپلس میں گئے۔
وزارت خزانہ کے مطابق اکاؤنٹس سرپلس ہونے سے مجموعی طور پرپاکستان کے معاشی اعشارے مثبت رہے لیکن معیشت سست روی کا شکار رہی۔

وزرات خزانہ نے بتایا کہ پنجاب کے 366 ارب روپے کے ریونیو میں سے 75 ارب 40 کروڑ روپے جبکہ سندھ میں 199 ارب روپے کے ریونیو میں سے 35 ارب 50 کروڑ سرپلس رہے۔

خیبرپختونخوا کے 141 ارب کے ریونیو میں 54 ارب روپے سرپلس رہے اور بلوچستان کے 86 ارب روپے ریونیو میں سے 37 ارب روپے خرچ نہیں کیے گئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ روپے کی قدر مستحکم ہوگئی، ملک میں استحکام آرہا ہے، 4 سال میں پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں چلا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں