پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تبدیلی کے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک کا بڑا دعویٰ۔۔۔ملکی معیشت کیلئے اچھی خبر

گورنرسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے پاکستان کا آؤٹ لْک موڈیزکی جانب سےتبدیل کرکے’منفی‘سے’مستحکم‘ کئے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

گورنرسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہےکہ یہ مثبت پیش رفت حالیہ مہینوں میں اقتصادی پالیسی سازوں کی جانب سےکئےگئےسخت فیصلوں کےاعتراف کی عکاسی کرتی ہے جن میں بتدریج ایکسچینج ریٹ کی قدرمیں کمی جو مئی2019ءمیں مارکیٹ پرمبنی ایکسچینج ریٹ نظام پرمنتج ہوئی،بھی شامل ہے،اِن اقدامات سے ہماری برآمدات کی مسابقت بڑھ گئی،مہنگی درآمدات کم ہوگئیں اور ملکی صنعتوں کو یہ موقع ملا کہ وہ درآمدات کے ساتھ مقابلہ کر سکیں، اسکا نتیجہ کرنٹ اکاؤنٹ میں مستحکم بہتری کی صورت میں نکلا جو واجبات نکالنے کے بعد سٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھانے کا اہم محرّک رہاہے۔

گورنرسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹررضاباقرنے کہاکہ سٹاک مارکیٹ میں اضافہ بھی مارکیٹ کےبہترہوتےہوئےاحساسات کا عکاس ہے، اس بڑھتے ہوئے احساس کا کہ ملکی مالیات مستحکم بنیادوں پرکھڑی ہیں۔گورنرنےاس بات پربھی زوردیاکہ اگرچہ مارکیٹ میں یہ پیش رفت خوش آئند ہےتاہم یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ابھرتی ہوئی مالی بہتری کو متوسط اور پست آمدنی والے طبقوں کیلئے حقیقی فائدے میں ڈھالا جائے۔

معاشرے کے ان طبقات نے ردوبدل کے مشکل فیصلوں کا بیشتر بوجھ برداشت کیاہے جن میں تنخواہ دارملازمین کی تنخواہوں سے براہ راست انکم ٹیکس کی بھاری کٹوتی،بھاری بالواسطہ ٹیکس اور بلند مہنگائی شامل ہیں،بڑھتی مہنگائی کی جزوی وجوہات یہ ہیں۔

ایکسچینج ریٹ میں مسابقت کی بحالی کی ضرورت، سرکاری شعبے میں مالیاتی خسارے کم رکھنے کیلئے بڑھے ہوئے سرکاری نرخ اور غذائی رسد میں غیر متوقع تعطل۔ نجی سرمایہ کاری پر ساختی رکاوٹیں، جیسا کہ ‘کاروبار کرنے میں آسانی’ کے اظہاریوں میں دیکھا جا سکتا ہے، انہیں مزید دورکرنا ہوگا تاکہ نجی ملازمتیں تیزی سے پیدا ہوں اور بالآخر لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔

نیز قیمتوں میں کمی لانے کی خاطر غذائی رسد میں تعطل دورکرنا اور غذائی مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کرنا بھی ضروری ہے تاکہ مارکیٹ میں مستحکم ہوتے احساسات کو عوام خصوصاً متوسط اور پست آمدنی والے طبقوں کی آمدنی بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں