Doctor Muhammad Ashfaq

میٹرک کے رزلٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا ایک بھونچال

میٹرک کے رزلٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا ایک بھونچال

کل جب سے دسویں جماعت کے امتحانی نتیجے کا اعلان کیا گیا ہے سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا ایک بھونچال شروع ہو گیا ہے۔ہر دوسرے آئی ڈی سے کچھ اس طرح سے پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں۔ میرے بھائی، میری بہن، میرے بیٹے، میری بیٹی کے اتنے نمبر۔ میرے سکول کے اتنے بچوں کے اتنے نمبر وغیرہ وغیرہ ۔اور پھر اس کے جواب میں مبارکبادیں شروع ہو جاتی ہیں۔

میں پچھلے کچھ سالوں سے اس چیز کا تواتر سے مشاہدہ کر رہا ہوں ۔دوسری طرف میں پچھلے کئی سالوں سے ایسے بچوں کو تعلیم دے رہا ہوں جو اس سسٹم سے نمبروں کے انبار لے کر اعلئ تعلیم کے میدان میں داخل ہوتے ہیں۔ بہت سے طلبہ و طالبات سے معذرت کے ساتھ میں نے گذارتے سالوں میں طلبہ و طالبات کے نمبروں میں اضافہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ میرٹ بھی تواتر کے ساتھ بڑھتا ہوا دیکھا۔ لیکن طلبہ و طالبات میں قابلیت مسلسل کم ہوتے ہوئےدیکھی جوکہ اس مملکت خداداد کے لئے پریشانی کی بات ہونی چاہیے۔

ہمارے زیادہ تر طلبہ و طالبات میں جس چیز کی شدید قلت پائی جاتی ہے وہ کسی بھی چیز کے بارے میں ان کے سوال نہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہمارے زیادہ تر طلبہ و طالبات کو نوٹس چاہیے تاکہ وہ ان کو مکمل طور پر رٹ لیں اور امتحانات میں اعلئ نمبر حاصل کر سکیں۔ان کے ذہن میں ایک چیز حاوی ہے اچھے نمبروں کے ساتھ ڈگری کا حصول نہ کہ تعلیم حاصل کرنا۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ ہمارے بچے سکول کی عمر تک اور کچھ عرصہ بعد میں بھی سوالات کرتے ہیں کہ فلاں چیز کیا ہے۔ کیسے ہے اور کیوں ہے ۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں یہ سوالات کرنے کی صلاحیت کیوں ختم ہو جاتی ہے ۔ کیا ہمارے سکول سسٹم میں کوئی مسئلہ ہے یا ہمارا نصاب معیاری نہیں ۔ بدقسمتی سے والدین اور سکول کے اساتذہ میں نمبروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ بچوں کو تعلیم دینے کے بجائے رٹے پر زور دیا جاتا ہے۔ بچوں کے سوالوں کو رد کیا جاتا ہے اور سوال پوچھنے کی حوصلہ چھکنی کی جاتی ہے۔

کم نمبروں والے کو نالائق گردانا جاتا ہے۔ بچوں کو سوال کرنے کا حق دیں تب ہی بچے کے ذہن میں سوالات آئیں گے کہ فلاں چیز کیا ہے۔ کیسے بنی۔اس کی کیا خوبیاں اور خامیاں ہیں۔ خامیوں کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے اور خوبیوں کو کیسے اور بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے پاکستان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے۔ ڈگری تو ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ ہمیں نوکریاں کرنے والے نہیں نوکریاں دینے والوں کی ضرورت ہے۔ اور نوکریاں دینے والے تب وجود میں آئیں گے جب ان میں اس طرح کی سوچ پیدا ہوگی۔ اپنے بچے کو سوال کرنے کی عادت ڈالیں۔ ان میں تنقیدی سوچ پیدا کریں تاکہ وہ مسقبل اس ملک کو بہتر طور پر چلا سکیں ۔ یاد رکھیں جب تک سوالات ذہن میں نہیں آئیں گے۔ تعلیم صرف کاغذ کا ٹکڑا ہوگی ۔

ڈاکٹر محمد اشفاق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں